28 جون 2026 - 16:47
پولیٹیکو: امریکا اور اسرائیل کے درمیان اختلافات جے ڈی وینس کے بیان سے کہیں زیادہ گہرے ہیں

امریکی جریدے کے مطابق واشنگٹن اور تل ابیب کے تعلقات میں بڑھتی دوریاں صرف نائب امریکی صدر کے بیانات تک محدود نہیں بلکہ امریکی پالیسی میں بڑی تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی جریدے پولیٹیکو نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات صرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے حالیہ بیانات کا نتیجہ نہیں بلکہ دونوں اتحادیوں کے تعلقات میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔

رپورٹ میں امریکی اور اسرائیلی حکام کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کی حکومت کو امید تھی کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے "امریکا فرسٹ" نظریے کے باوجود اسرائیل کو خصوصی اہمیت حاصل رہے گی، لیکن حالیہ مہینوں کی پیش رفت نے یہ تاثر غلط ثابت کیا ہے۔

پولیٹیکو کے مطابق جے ڈی وینس کا یہ بیان کہ اسرائیل کے پاس امریکا کے سوا کوئی مؤثر اتحادی نہیں اور اسے اپنے واحد حامی کو ناراض نہیں کرنا چاہیے، محض ان کی ذاتی رائے نہیں بلکہ واشنگٹن کی بدلتی ہوئی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کے دورۂ واشنگٹن میں کمی، دونوں ممالک کے درمیان اعلیٰ سطح کے رابطوں میں نمایاں کمی اور ایران و لبنان سے متعلق پالیسی پر اختلافات، تعلقات میں بڑھتی سرد مہری کی علامت ہیں۔

ذرائع کے مطابق جے ڈی وینس طویل عرصے سے اس مؤقف کے حامی رہے ہیں کہ امریکا اور اسرائیل کے مفادات ہر معاملے میں ایک جیسے نہیں ہوتے اور واشنگٹن کو اسرائیل کی خاطر ایران کے خلاف کسی جنگ میں نہیں کودنا چاہیے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس نے اس تاثر کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے تعلقات بدستور مضبوط ہیں اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اب بھی اسرائیل کے اہم ترین حامیوں میں شامل ہیں۔

پولیٹیکو نے اپنی رپورٹ میں یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل کے سیاسی حلقوں میں امریکا کے بدلتے سیاسی ماحول پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق ریپبلکن پارٹی، خصوصاً نوجوان رہنماؤں اور کارکنوں میں اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کے حوالے سے پہلے جیسا اتفاقِ رائے موجود نہیں رہا۔ جریدے کا کہنا ہے کہ امریکا اور مقبوضہ فلسطین میں آئندہ انتخابات قریب آنے کے ساتھ واشنگٹن سے اسرائیل کی توقعات اور امریکی حکومت کی پالیسی کے درمیان فرق مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے اثرات دونوں ممالک کے مستقبل کے تعلقات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha